بیخودئ عشق کا کچھ کچھ فسانا یاد ہے
مجھ کو اپنا سر،۔ تمہارا آستانا یاد ہے
عرضِ غم پر ان کا یہ کہہ کر جلانا
اور کچھ فرمائیے یہ تو فسانا یاد ہے
برقِ سوزاں تُو ہمیشہ پھولتی پھلتی رہے
میرا دامن سے لپٹنا آپ شاید بھول جائیں
مجھ کو اب تک آپ کا دامن چھڑانا یاد ہے
تیرے جلووں میں دلِ نخشبؔ کبھی آباد تھا
سچ بتا دے کیا تجھے بھی وہ زمانا یاد ہے
نخشب جارچوی
No comments:
Post a Comment