ہر اک جواب کی تہ میں سوال آئے گا
گئے یُگوں کے بُتوں کا زوال آئے گا
ہُنر کا عکس بھی ہو آئینہ بھی بن جاؤ
پھر اس کے بعد ہی رنگِ کمال آئے گا
حریف جاں ہے اگر وہ تو پھر کہو اس سے
گئی جو جان تو دل کا سوال آئے گا
یقین ہے کہ ملے گا عروج ہم کو بھی
یقین ہے کہ تِرا بھی زوال آئے گا
ابھی امید کو مایوسیوں کا رنگ نہ دے
ٹھہر ٹھہر ابھی اس کا خیال آئے گا
اسی کے شہ پہ بجھے گا چراغ دل عادل
نہاں خلوص میں جو اشتعال آئے گا
عادل حیات
No comments:
Post a Comment