Sunday, 15 November 2020

جو سر اٹھا نہ سکیں وہ بغاوتیں کیسی

 جو سر اٹھا نہ سکیں، وہ بغاوتیں کیسی

جو اپنا دل ہی جلائیں، وہ چاہتیں کیسی

ہم اپنے عہد کی تازہ ہوا میں سانس نہ لیں

ملی ہیں ورثے میں ہم کو محبتیں کیسی

وہ کر گیا بھری برسات میں لہو دل کا

رہی ہیں آنکھ پہ بارش کی شدتیں کیسی

ہمیں تو خود کو پرکھنے کی بھی نہیں مہلت

کسی کے ساتھ زیادہ شکایتیں کیسی

ہمارے نام پہ زندہ ہے اک شہرِ جمال

قبائے گل پہ ہواوں کی تہمتیں کیسی

جو آنکھ دیکھتی ہے،دل بھی دیکھنے لگ جائے

بصیرتیں نہ رہیں تو بصارتیں کیسی

ہمارے جسم کو چنوا دیا سرِ بازار

تمہارے شہر نے دیں ہم کو عزتیں کیسی


رضوانہ انجم

No comments:

Post a Comment