چاند محبوب کا استعارہ ہے بس
اس لیے اس کا صدقہ اتارا ہے بس
ہاں یہی سوچ کر دل کو یارا ہے بس
حال اب آپ ہی سا ہمارا ہے بس
سن کے سرگوشئ دل چلے آئیے
آپ کو میرے دل نے پکارا ہے بس
تھا کبھی اختیار اپنے دل پر ہمیں
اب تو لگتا ہے اس پر تمہارا ہے بس
اس جنونِ محبت کے صدقے یہاں
آج چرچا ہمارا تمہارا ہے بس
ہم طواف اس کا کرتے رہیں گے سدا
کوئے جاناں ہی کعبہ ہمارا ہے بس
دھوپ میں چھاؤں میں نیند کے گاؤں میں
ہر جگہ ساتھ اس کا گوارا ہے بس
وہ بھی میری طرح ہی انا دار ہے
اک یہی اس کا انداز پیارا ہے بس
اس بھری بزم میں آپ ہوں یا کہ ہم
کوئی ذرہ نہیں ہے ستارہ ہے بس
یہ جو ملکِ سخن ہے یہاں سعدیہ
غالب و میر ہی کا اجارہ ہے بس
سعدیہ صدف
No comments:
Post a Comment