Sunday, 15 November 2020

چاند محبوب کا استعارہ ہے بس

 چاند محبوب کا استعارہ ہے بس

اس لیے اس کا صدقہ اتارا ہے بس

ہاں یہی سوچ کر دل کو یارا ہے بس

حال اب آپ ہی سا ہمارا ہے بس

سن کے سرگوشئ دل چلے آئیے

آپ کو میرے دل نے پکارا ہے بس

تھا کبھی اختیار اپنے دل پر ہمیں

اب تو لگتا ہے اس پر تمہارا ہے بس

اس جنونِ محبت کے صدقے یہاں

آج چرچا ہمارا تمہارا ہے بس

ہم طواف اس کا کرتے رہیں گے سدا

کوئے جاناں ہی کعبہ ہمارا ہے بس

دھوپ میں چھاؤں میں نیند کے گاؤں میں

ہر جگہ ساتھ اس کا گوارا ہے بس

وہ بھی میری طرح ہی انا دار ہے

اک یہی اس کا انداز پیارا ہے بس

اس بھری بزم میں آپ ہوں یا کہ ہم

کوئی ذرہ نہیں ہے ستارہ ہے بس

یہ جو ملکِ سخن ہے یہاں سعدیہ

غالب و میر ہی کا اجارہ ہے بس


سعدیہ صدف

No comments:

Post a Comment