Sunday, 15 November 2020

ہے ربط اس سے بہت احترام کافی ہے

 ہے ربط اس سے بہت، احترام کافی ہے

مری شناخت کو وہ ایک نام کافی ہے

اسے میں بھولنا چاہوں مگر بھلا نہ سکوں

خود اپنے آپ سے یہ انتقام کافی ہے

سمندروں کی روانی سے کیا غرض مجھ کو

کنارے لگنے کو موجِ خرام کافی ہے

یہ آسمان اب اپنے لیے رہا ہی نہیں

سمیٹو پنکھ، قفسِ دوام کافی ہے

نہیں کچھ اور ضرورت کہ مغفرت کو صدف

غمِ حسین کا ہی اہتمام کافی ہے


صبیحہ صدف

No comments:

Post a Comment