Sunday, 15 November 2020

اس جگہ گر نہ سہی ہے تو کہیں اپنی بھی

 اس جگہ گر نہ سہی ہے تو کہیں اپنی بھی

یعنی دو گز تو پڑی ہو گی زمیں اپنی بھی

میں غلط بات پہ کیوں تیری حمایت کر دوں

میں تو ایسے میں طرفدار نہیں اپنی بھی

اس کی دہلیز پہ جھکنے کی ذرا دیر ہے بس

معتبر ہونے ہی والی ہے جبیں اپنی بھی

ہم تِرے عرش کو گر سر پہ اٹھا رکھتے ہیں

کچھ تو تعظیم کرے عرشِ بریں اپنی بھی

جس جگہ پر یہ تِرے خواب رکھے رہتے ہیں

میں نے نیندیں ہیں سجا رکھی وہیں اپنی بھی

تیرے انکار کی تائید بھی میں کرتی ہوں

پر بغاوت کا اشارہ ہے، نہیں، اپنی بھی

تلخیاں ماضی کی گر اس نے بھلا دی ہیں کنول

تجھ پہ لازم ہے انا چھوڑ یہیں اپنی بھی


ریحانہ کنول

No comments:

Post a Comment