اس جگہ گر نہ سہی ہے تو کہیں اپنی بھی
یعنی دو گز تو پڑی ہو گی زمیں اپنی بھی
میں غلط بات پہ کیوں تیری حمایت کر دوں
میں تو ایسے میں طرفدار نہیں اپنی بھی
اس کی دہلیز پہ جھکنے کی ذرا دیر ہے بس
معتبر ہونے ہی والی ہے جبیں اپنی بھی
ہم تِرے عرش کو گر سر پہ اٹھا رکھتے ہیں
کچھ تو تعظیم کرے عرشِ بریں اپنی بھی
جس جگہ پر یہ تِرے خواب رکھے رہتے ہیں
میں نے نیندیں ہیں سجا رکھی وہیں اپنی بھی
تیرے انکار کی تائید بھی میں کرتی ہوں
پر بغاوت کا اشارہ ہے، نہیں، اپنی بھی
تلخیاں ماضی کی گر اس نے بھلا دی ہیں کنول
تجھ پہ لازم ہے انا چھوڑ یہیں اپنی بھی
ریحانہ کنول
No comments:
Post a Comment