عشق رشتہ مِرا مضبوط کیے دیتا ہے
حسن ایسا ہے کہ مبہوت کیے دیتا ہے
میرا مرشد ہے وہ پارس کہ قدم چھو لوں تو
سنگریزے مِرے یاقوت کیے دیتا ہے
ایک دھاگے میں پرو دیتا ہے سب عشق حروف
بکھری سوچیں مِری مربوط کیے دیتا ہے
خواہشِ وصل کو وہ کہہ کے فقط کارِ ہوس
عشق کو ہجر سے مشروط کیے دیتا ہے
اس کی توحید کا صحرا ہے یوں پھیلا مجھ میں
دل کی دنیا مِری لاہوت کیے دیتا ہے
میرا ناقد ، مِرا حاسد ہے سو اکثر اختر
میرے ریشم کو نِرا سُوت کیے دیتا ہے
مجید اختر
No comments:
Post a Comment