Thursday, 3 December 2020

خسرو اٹھے غالب گزرے بزم سے اب نغمات گئے

 خسرو اٹھے غالب گزرے بزم سے اب نغمات گئے

زہر کا پیالہ کون پیے گا؟ عالم سے سقراط گئے

حبس کا پہرا اندر بیٹھا دل سے سب حضرات گئے

ماپ سکیں احساس کو جو، وہ دنیا سے آلات گئے

سبزہ، جنگل، پربت، دریا، روہی رب نے کھول دئیے

مسجد کھولو، مندر کھولو، گرجے کھولو، رات گئے

ایک ہی جیسا شعر کہیں گے حسن پہ داد بٹوریں گے

پہلے نازل ہوتے تھے، اب برکت کے جنات گئے

نطشے نے بھی آخر آدم کو کہہ ڈالا سوپر مین

یوں دعویٰ کر کے عہدہ لینے والے بہتات گئے

جنسی حسد کی آگ میں جل کر باپ نے بیٹا قتل کیا

پاک کیے تھے عمر نے رشتے، لمحوں میں جذبات گئے

میں درگاہ پہ تجھ سے ملتی، حق سے رکھتی عکس ترا

تیرے چرنوں میں رہتی، پر ایسے بھی حالات گئے


ردا فاطمہ

No comments:

Post a Comment