Thursday, 3 December 2020

معیار فن سے بیٹھے ہیں سب لوگ دھو کے ہاتھ

 معیار فن سے بیٹھے ہیں سب لوگ دھو کے ہات

آنے لگے ہیں کام سخن میں تعلقات

تیرا خیال، تیری تڑپ اور ترا جنوں

ہوتے ہیں ایک جان تو بنتی ہے میری ذات

کب تک نظر جمائے تجھے دیکھتا رہوں

تُو بھی تو مجھ کو دیکھ کہ ڈھلنے لگی ہے رات

وارفتگی، سپردگی، دیوانگئ شوق

کہتے ہیں لوگ عشق کے یہ ہیں محرکات

جیسے ترے وجود سے ہو سر خوشئ زیست

شاداں ہوں میں یا رقص میں ہے پوری کائنات

سانسیں بھی جیسے اپنا ذخیرہ گنوا چکیں

اب تنگ ہو رہا ہے بہت عرصۂ حیات

جیسے بھری بہار نے بھولا ہو راستہ

جیسے خزاں نے چھوڑا نہ ہو زندگی کا سات


کاظم واسطی

No comments:

Post a Comment