دکنی اردو غزل
لوگاں سجا رہے ہیں دکاناں ادھر اودھر
اور دے رہے ہیں اپنے بیاناں ادھر اودھر
جاناں جاں ادھر ہیں، رقیباں ادھر اودھر
کرتے ہیں لوگ کتنے کمالاں ادھر اودھر
دامن پہ چاک، اور گریباں ادھر اودھر
ہوتا ہے کیسا عشق میں ساماں ادھر اودھر
شامل ہیں اس قبیلے میں نوزائیدہ سپوت
کرتے ہیں محفلوں کو پریشاں ادھر اودھر
محفل سجے کی شہر سخن میں کچھ اس طرح
جلتے پھریں گے سارے رقیباں ادھر اودھر
سب کو ہے فکر جا کے دکھائیں کوئی کمال
شعروں میں جن کے ہوتے ہیں وزناں ادھر اودھر
جو مستند ہیں ان کو کوئی پوچھتا نہیں
گم ہو گئیں ہیں ان کی کھڑاواں ادھر اودھر
ہونے کا یا نہ ہونے کا اس کے یہ فرق پے
ہوجائے محفلوں سے چراغاں ادھر اودھر
ہے یہ بھی کوئی بات محبت کی واسطی
دن تو گزارے ساتھ، ہوں راتاں ادھر اودھر
کاظم واسطی
No comments:
Post a Comment