خوشی کی نئی اک روایت ملے گی
جیے جانے سے ہی طراوت ملے گی
یہ تیور کسی اور کو تم دِکھانا
مرے لہجے میں بس ذہانت ملے گی
جہاں پیڑ پہ نام تیرا لکھا تھا
دسمبر میں اس سے شکایت ملے گی
مرے شہر سے ہی ہڑپّہ ملا تھا
یہیں سے پرانی ثقافت ملے گی
اگر ہاتھ جوڑے کھڑے تم رہو گے
تو ایسی ہی تم کو قیادت ملے گی
جہاں بھی ملیں گے منافق لگیں گے
یہاں دوستی میں سیاست ملے گی
ردا فاطمہ
No comments:
Post a Comment