Saturday, 5 December 2020

خوشی کی نئی اک روایت ملے گی

 خوشی کی نئی اک روایت ملے گی

جیے جانے سے ہی طراوت ملے گی

یہ تیور کسی اور کو تم دِکھانا

مرے لہجے میں بس ذہانت ملے گی

جہاں پیڑ پہ نام تیرا لکھا تھا

دسمبر میں اس سے شکایت ملے گی

مرے شہر سے ہی ہڑپّہ ملا تھا

یہیں سے پرانی ثقافت ملے گی

اگر ہاتھ جوڑے کھڑے تم رہو گے

تو ایسی ہی تم کو قیادت ملے گی

جہاں بھی ملیں گے منافق لگیں گے

یہاں دوستی میں سیاست ملے گی


ردا فاطمہ

No comments:

Post a Comment