یہ نہیں ہے کہ سدا ہم کو خسارے ہوئے ہیں
ہم بھی اچھا کبھی وقت اپنا گزارے ہوئے ہیں
وہ ملا بھی تو فقط ہم سے بچھڑ جانے کو
عشق کے کھیل میں جیتے ہیں نہ ہارے ہوئے ہیں
اس نے اچھا ہی کیا ترکِ تعلق کر کے
بوجھ یہ ہم بھی تو کاندھوں سے اتارے ہوئے ہیں
اس کو سورج کی ضیاؤں نے جِلا بخشی ہے
اپنے ہمراہ بھی تو چاند ستارے ہوئے ہیں
اب نہ ساحل ہے، نہ ساحل پہ ہجومِ یاراں
دور دریا کے سبھی ہم سے کنارے ہوئے ہیں
رنج و غم، ہجر، پشیمانی و اندوہِ وفا
عشق کے جتنے مرض ہیں ہمیں سارے ہوئے ہیں
کاظم واسطی
No comments:
Post a Comment