Saturday, 5 December 2020

یہ نہیں ہے کہ سدا ہم کو خسارے ہوئے ہیں

 یہ نہیں ہے کہ سدا ہم کو خسارے ہوئے ہیں

ہم بھی اچھا کبھی وقت اپنا گزارے ہوئے ہیں

وہ ملا بھی تو فقط ہم سے بچھڑ جانے کو

عشق کے کھیل میں جیتے ہیں نہ ہارے ہوئے ہیں

اس نے اچھا ہی کیا ترکِ تعلق کر کے

بوجھ یہ ہم بھی تو کاندھوں سے اتارے ہوئے ہیں

اس کو سورج کی ضیاؤں نے جِلا بخشی ہے

اپنے ہمراہ بھی تو چاند ستارے ہوئے ہیں

اب نہ ساحل ہے، نہ ساحل پہ ہجومِ یاراں

دور دریا کے سبھی ہم سے کنارے ہوئے ہیں

رنج و غم، ہجر، پشیمانی و اندوہِ وفا

عشق کے جتنے مرض ہیں ہمیں سارے ہوئے ہیں


کاظم واسطی

No comments:

Post a Comment