گردشوں، دائرے یہ محور کیوں
پھر زمیں کھا رہی ہے چکر کیوں
جب محبت کا نام لیتے ہیں
لوگ پھر مارتے ہیں پتھر کیوں
عکس جیسا ہے تیرا ہی تو ہے
آئینہ دیکھ کر تمہیں ڈر کیوں
خود کو اپنے سوا کہاں ڈھونڈوں
کھو گئی ہوں میں اپنے اندر کیوں
ایک چادر وہ آسماں کی طرح
پھر کھڑا آسماں ہے سر پر کیوں
سانپ جتنے تھے تم نے ہی پالے
اب رکھا آستیں میں خنجر کیوں
خود سے اپنے لیے سوال کیا
مجھ پہ ہنسنے لگا مقدر کیوں
ہو نہ قربان اپنے لوگوں پر
وہ بنے عہد کا سکندر کیوں
ایک ہی دوست تو نہیں میرا
یوں ہے پھر جاں نثار اس پر کیوں
میں نے اپنوں کی آبیاری کی
پھر بھی نیزوں پہ ہے مِرا سر کیوں
اے خدا! تجھ پہ فیصلہ چھوڑا
تُو مِرا ہے تو میں ہوں بے گھرکیوں
آپ جائیں گے جب مِرے گھر پر
پوچھئے گا ردا سے ہے ڈر کیوں
ردا فاطمہ
No comments:
Post a Comment