Thursday, 10 June 2021

خدا کرے کہ یہ مٹی بکھر بھی جائے اب

 خدا کرے کہ یہ مٹی بکھر بھی جائے اب

چڑھا ہوا ہے جو دریا اتر بھی جائے اب

یہ روز روز کا ملنا بچھڑنا کھلتا ہے

وہ میری روح کے اندر اتر بھی جائے اب

وہاں وہ پھول سا چہرہ ہے منتظر اس کا

کہو یہ شاعر آوارہ گھر بھی جائے اب

میں اپنے آپ کو کب تک یونہی سمیٹے پھروں

چلے وہ آندھی کہ سب کچھ بکھر بھی جائے اب

اسی کی وجہ سے سارے وبال ہیں فاروق

بدن کا قرض ادا ہو یہ سر بھی جائے اب


فاروق بخشی

No comments:

Post a Comment