Sunday, 6 December 2020

جاہلوں سے کوئی کلام نہیں

 جاہلوں سے کوئی کلام نہیں

عادتوں میں یہ اہتمام نہیں

میں نمٹ لوں برستے بادلوں سے

کچی بستی میں پکے بام نہیں

اے سخن کے خدا! کہاں ملے گا

اِذن دے، شاعری حرام نہیں

میں تخیل کے دشت میں رہونگی

کہ حقیقت یہاں دوام نہیں

زندہ رہنا ضروری ہو گیا ہے

خود کشی! تُو مرا مقام نہیں

کس قدر تم غضب سے دیکھتے ہو

ہاں مگر اس میں احترام نہیں

اے جہاں میرے راستے میں نہ آ

سوچ کی حد ہے، اختتام نہیں


ردا فاطمہ

No comments:

Post a Comment