جاہلوں سے کوئی کلام نہیں
عادتوں میں یہ اہتمام نہیں
میں نمٹ لوں برستے بادلوں سے
کچی بستی میں پکے بام نہیں
اے سخن کے خدا! کہاں ملے گا
اِذن دے، شاعری حرام نہیں
میں تخیل کے دشت میں رہونگی
کہ حقیقت یہاں دوام نہیں
زندہ رہنا ضروری ہو گیا ہے
خود کشی! تُو مرا مقام نہیں
کس قدر تم غضب سے دیکھتے ہو
ہاں مگر اس میں احترام نہیں
اے جہاں میرے راستے میں نہ آ
سوچ کی حد ہے، اختتام نہیں
ردا فاطمہ
No comments:
Post a Comment