دُھل گئے خواب تو آنکھوں کا بھی اُترا کاجل
میں کہاں روئی جو ہر بار ہی پھیلا کاجل
مجھ کو اپنوں سے سیاست نہیں کرنی آئی
کی شکایت تو مِرے حال پہ رویا کاجل
عقل و دانش و ادب اور سمجھ سچائی
فہم و ادراک کا اب کس نے لگایا کاجل
وصل کی دھوپ تو ہر روز سجا رکھتی ہے
ہجر کی شام جو آئی تو یہ پھیلا کاجل
کانچ کی چوریاں ہاتھوں میں سجی ٹوٹ گئیں
ہنستے ہنستے بھی کئی بار تھا بھیگا کاجل
لہجہ ایسا کہ فضائیں تھی معطر ہر پل
سن کے ہر بار تِری بات یہ مہکا کاجل
اپنی دیوار پہ آ کر مِری تصویر تو دیکھ
شیشۂ دل سا چمکتا ہے یہ اجلا کاجل
دل نے پائل سے جو تنہائی میں اک بات کہی
رقص کرتا ہی رہا شور مچاتا کاجل
ایک ہی بار تو ہاتھوں میں لیا ہاتھ اس نے
ایک ہی بار تو جی بھر کے لگایا کاجل
وہ ردا! دوست تھا دشمن کہ مسیحا میرا
جس نے ماتھے پہ رکھا ہاتھ تو سویا کاجل
ردا فاطمہ
No comments:
Post a Comment