Sunday, 7 May 2023

خطائیں یاد رکھ کر تم عطا کو بھول جاتے ہو

 خطائیں یاد رکھ کر تم عطا کو بُھول جاتے ہو

جو ماتھا چُوم کے دی تھی دعا کو بھول جاتے ہو

عداوت رکھنے والوں سے محبت کیسے ہوتی ہے

ہے تم کو یاد سب، اس ارتقاء کو بھول جاتے ہو

بہت محتاط سا لہجہ کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں

فرومایہ ہو بے حد تم، وفا کو بھول جاتے ہو

کہا کیا تم کو مجھ سے ہی محبت تھی محبت ہے

سنو جب جھوٹ کہتے ہو، خدا کو بھول جاتے ہو


ابو لویزا علی

No comments:

Post a Comment