خطائیں یاد رکھ کر تم عطا کو بُھول جاتے ہو
جو ماتھا چُوم کے دی تھی دعا کو بھول جاتے ہو
عداوت رکھنے والوں سے محبت کیسے ہوتی ہے
ہے تم کو یاد سب، اس ارتقاء کو بھول جاتے ہو
بہت محتاط سا لہجہ کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں
فرومایہ ہو بے حد تم، وفا کو بھول جاتے ہو
کہا کیا تم کو مجھ سے ہی محبت تھی محبت ہے
سنو جب جھوٹ کہتے ہو، خدا کو بھول جاتے ہو
ابو لویزا علی
No comments:
Post a Comment