یہ تو سچ ہے کہ ٹوٹے پھوٹے ہیں
میرے بچپن کے یہ کھلونے ہیں
تپتے صحرا میں تیز بارش کے
میں نے کتنے ہی خواب دیکھے ہیں
کون کس کی برہنگی پہ ہنسے
سب ہی زیرِ لباس ننگے ہیں
ان کے پانی سے کیا بجھے گی پیاس
یہ گھڑے تو بہت ہی کچے ہیں
ذہن کا اک ورق بھی سادہ نہیں
جانے کیا کیا سوال لکھے ہیں
پڑ رہے ہیں فرات پر پہرے
میرے ہاتھوں میں خالی کوزے ہیں
ہوش جونپوری
(اصغر مہدی ہوش)
No comments:
Post a Comment