Sunday, 3 January 2021

یہ تو سچ ہے کہ ٹوٹے پھوٹے ہیں

 یہ تو سچ ہے کہ ٹوٹے پھوٹے ہیں

میرے بچپن کے یہ کھلونے ہیں

تپتے صحرا میں تیز بارش کے

میں نے کتنے ہی خواب دیکھے ہیں

کون کس کی برہنگی پہ ہنسے

سب ہی زیرِ لباس ننگے ہیں

ان کے پانی سے کیا بجھے گی پیاس

یہ گھڑے تو بہت ہی کچے ہیں

ذہن کا اک ورق بھی سادہ نہیں

جانے کیا کیا سوال لکھے ہیں

پڑ رہے ہیں فرات پر پہرے

میرے ہاتھوں میں خالی کوزے ہیں


ہوش جونپوری

(اصغر مہدی ہوش)

No comments:

Post a Comment