عقدہ کشائئ وجود، یوں ہے محال بھی مجھے
رکھنا ہے راز آتش و آب و سفال بھی مجھے
ردِ گماں کے واسطے اپنا کوئی ثبوت دے
اور مدارِ جسم سے آ کے نکال بھی مجھے
ہوتے رہے ہیں عمر بھر کام دعاؤں سے مگر
کرتا رہا بہت خراب ایک سوال بھی مجھے
ٹوٹ گئے سبھی بھرم، کیسا وجود، کیا عدم
اب نہ سنبھال پائے گا تیرا خیال بھی مجھے
عرصۂ کار زار میں آج کسی کے وار سے
جان بچانے کا ہوا کتنا ملال بھی مجھے
اے نِگہِ ستارہ جُو دیکھ کے ملتفت تجھے
آج بہت نڈھال ہوں، آج سنبھال بھی مجھے
میں کسی اور رنگ میں، تُو کسی اور امنگ میں
گزرا ہے کس قدر گراں، تیرا وصال بھی مجھے
جمال احسانی
No comments:
Post a Comment