Sunday, 3 January 2021

کیوں کہ اپنے خول میں سمٹا رہا

 کیوں کہ اپنے خول میں سمٹا رہا

عمر بھر میں اس لیے تنہا رہا

بس تصور ساتھ میں تیرا رہا

تیری یادوں سے سدا مہکا رہا

ایسی بھی تنہائی سے گزرا ہوں میں

دور خود سے میں کہیں بیٹھا رہا

زندگی حیراں مجھے کرتی رہی

میں بنا کر راستے چلتا رہا

جیسے تیسے میں نے کاٹا ہے سفر

تُو بتا، تیرا سفر کیسا رہا؟

تجھ سے جیسے گفتگو سی ہو گئی

شاعری میں اس لیے کرتا رہا

زین یوں بھی اجنبی ہیں مجھ سے سب

جب سے میں اس کا ہوا، کس کا رہا


انوار زین

No comments:

Post a Comment