کیوں کہ اپنے خول میں سمٹا رہا
عمر بھر میں اس لیے تنہا رہا
بس تصور ساتھ میں تیرا رہا
تیری یادوں سے سدا مہکا رہا
ایسی بھی تنہائی سے گزرا ہوں میں
دور خود سے میں کہیں بیٹھا رہا
زندگی حیراں مجھے کرتی رہی
میں بنا کر راستے چلتا رہا
جیسے تیسے میں نے کاٹا ہے سفر
تُو بتا، تیرا سفر کیسا رہا؟
تجھ سے جیسے گفتگو سی ہو گئی
شاعری میں اس لیے کرتا رہا
زین یوں بھی اجنبی ہیں مجھ سے سب
جب سے میں اس کا ہوا، کس کا رہا
انوار زین
No comments:
Post a Comment