Saturday, 13 March 2021

چل سکتا تھا جتنا وہ مرے ساتھ چلا خیر

 چل سکتا تھا جتنا وہ مِرے ساتھ چلا خیر

غم یہ ہے کہ اک مان تھا جو ٹوٹ گیا، خیر

میں جھیل گیا جو بھی ہوا جیسے ہوا خیر

لیکن ہے تِرے واسطے بس دل سے دعا خیر

اک عمر لگی تب یہ کہیں مجھ پہ کھلا راز

مانگو جو اگر خیر تو کرتا ہے خدا خیر

وعدے کا تو کیا بھول ہی جاتے ہیں سبھی لوگ

لیکن وہ مِرا نام تلک بھول گیا، خیر


صغیر احمد صغیر

صغیر احمد احسنی

No comments:

Post a Comment