Saturday, 13 March 2021

تری پسند کی چیزیں خرید لینے سے

 تری پسند کی چیزیں خرید لینے سے

نظام چلتا ہے سانسیں مزید لینے سے

ہمارا کام ہو آساں کہ ہم بھی مر جائیں

تمہاری بد دعا شاید شدید لینے سے

ہر ایک پھول بڑی خامشی سے کھِلتا ہے

اس ایک شخص کی گُفت و شنید لینے سے

پُرانا وقت، بھلا دور آ نہیں سکتا

اے میرے یار یہ گھڑیاں جدید لینے سے

پتہ چلا کہ یہ دُنیا حسین کتنی ہے

تمہاری آنکھ کی تھوڑی سی دِید لینے سے

پھر اسکے بعد ستاروں کو چھونے لگتے ہیں

تمہارے پاؤں کی مٹی مرید لینے سے

وگرنا علم ہے تم کو بھی اس محبت کا

سکون ملتا ہے وعدے وعید لینے سے


ندیم راجہ

No comments:

Post a Comment