تری پسند کی چیزیں خرید لینے سے
نظام چلتا ہے سانسیں مزید لینے سے
ہمارا کام ہو آساں کہ ہم بھی مر جائیں
تمہاری بد دعا شاید شدید لینے سے
ہر ایک پھول بڑی خامشی سے کھِلتا ہے
اس ایک شخص کی گُفت و شنید لینے سے
پُرانا وقت، بھلا دور آ نہیں سکتا
اے میرے یار یہ گھڑیاں جدید لینے سے
پتہ چلا کہ یہ دُنیا حسین کتنی ہے
تمہاری آنکھ کی تھوڑی سی دِید لینے سے
پھر اسکے بعد ستاروں کو چھونے لگتے ہیں
تمہارے پاؤں کی مٹی مرید لینے سے
وگرنا علم ہے تم کو بھی اس محبت کا
سکون ملتا ہے وعدے وعید لینے سے
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment