یونہی بے کار میں ہم رو رہے ہیں
زمیں بنجر ہے، فصلیں بو رہے ہیں
یقیں ہے دشت کی رونق بنیں گے
ہمارے ساتھ بھی جو جو رہے ہیں
اٹھا کر ہاتھ جس کو مانگتے تھے
اسے اپنے ہی ہاتھوں کھو رہے ہیں
ہماری آنکھ میں آنسو نہیں ہیں
مقدر کے لکھے کو دھو رہے ہیں
مِری غزلیں اداسی سے بھری ہیں
مِرے سب قافیے بھی رو رہے ہیں
ہم ایسے شاعروں کو کیا ملے گا
پرایا بار ہے جو ڈھو رہے ہیں
کوئی ہونے کی یہ تکلیف سمجھے
کسی کے ہیں، کسی کے ہو رہے ہیں
ہے ثروت شرک ایسا سوچنا بھی
ازل سے ایک ہیں، کب دو رہے ہیں
ثروت مختار
No comments:
Post a Comment