تمہاری یاد
رات کے سُرمئی اندھیروں میں
سانس لیتے ہوئے سویروں میں
آبجو کے حسیں کناروں پر
خواب آلود رہگزاروں پر
گلستانوں کی سیر گاہوں میں
زندگی کی حسین راہوں میں
مئے رنگیں کا جام اٹھاتے وقت
رنج و غم کی ہنسی اڑاتے وقت
شادمانی میں غم کے طوفاں میں
رونق شہر میں بیاباں میں
رقص کرتی ہوئی بہاروں میں
خون آشام خار زاروں میں
دوپہر ہو کہ نور کا تڑکا
فصلِ گل ہو کہ دورِ پت جھڑ کا
صبح کے وقت شام کے ہنگام
بے قیود مقام بے ہنگام
دامنِ دل کو تھام لیتی ہے
کتنی گستاخ ہے تمہاری یاد
راجندر ناتھ رہبر
No comments:
Post a Comment