Saturday, 5 November 2022

رات بھر درد بھری رات ہمیں کاٹتی ہے

 رات بھر درد بھری رات ہمیں کاٹتی ہے

وہ ہے تنہائی کہ برسات ہمیں کاٹتی ہے

تم جو کہتے ہو کہ بس رات گئی بات گئی

تم کو معلوم ہے یہ بات ہمیں کاٹتی ہے

اس نے سمجھا ہی نہیں وصل کا مطلب کیا ہے

اجنبی بن کے ملاقات ہمیں کاٹتی ہے

ہم نے اشکوں سے یہ دیکھا تھا عبارت ہوتے

چاند تاروں سے بھری رات ہمیں کاٹتی ہے

شکریہ آپ نے اوقات بڑھا دی، لیکن

بعض اوقات یہ اوقات ہمیں کاٹتی ہے

وہ جو کہتے تھے، کرو بات کہ خوشبو بکھرے

اب وہ کہتے ہیں، تِری بات ہمیں کاٹتی ہے

پوچھنے آتے ہیں حالات کسی غیر کے ساتھ

اور یہ صورتِ حالات ہمیں کاٹتی ہے


صغیر احمد صغیر

صغیر احمد احسنی

No comments:

Post a Comment