رات بھر درد بھری رات ہمیں کاٹتی ہے
وہ ہے تنہائی کہ برسات ہمیں کاٹتی ہے
تم جو کہتے ہو کہ بس رات گئی بات گئی
تم کو معلوم ہے یہ بات ہمیں کاٹتی ہے
اس نے سمجھا ہی نہیں وصل کا مطلب کیا ہے
اجنبی بن کے ملاقات ہمیں کاٹتی ہے
ہم نے اشکوں سے یہ دیکھا تھا عبارت ہوتے
چاند تاروں سے بھری رات ہمیں کاٹتی ہے
شکریہ آپ نے اوقات بڑھا دی، لیکن
بعض اوقات یہ اوقات ہمیں کاٹتی ہے
وہ جو کہتے تھے، کرو بات کہ خوشبو بکھرے
اب وہ کہتے ہیں، تِری بات ہمیں کاٹتی ہے
پوچھنے آتے ہیں حالات کسی غیر کے ساتھ
اور یہ صورتِ حالات ہمیں کاٹتی ہے
صغیر احمد صغیر
صغیر احمد احسنی
No comments:
Post a Comment