آنکھوں کی دہلیز پے آ کر بیٹھ گئی
تیری صورت خواب سجا کر بیٹھ گئی
کل تیری تصویر مکمل کی میں نے
فوراً اس پر تتلی آ کر بیٹھ گئی
تانا بانا بُنتے بُنتے ہم اُدھڑے
حسرت پھر تھک کر غش کھا کر بیٹھ گئی
رونے کی ترکیب ہمارے آئی کام
غم کی مٹی پانی پا کر بیٹھ گئی
وہ بھی لڑتے لڑتے جگ سے ہار گیا
چاہت بھی گھر بار لُٹا کر بیٹھ گئی
اب کے چراغوں نے چونکایا دنیا کو
آندھی آخر میں جھنجھلا کر بیٹھ گئی
ایک سے بڑھ کر ایک تھے داؤ شرافت کے
جیت مگر ہم سے کترا کر بیٹھ گئی
تیرے شہر سے ہو کر آئی تیز ہوا
پھر دل کی بنیاد ہلا کر بیٹھ گئی
ارشاد سکندر
No comments:
Post a Comment