Saturday, 18 July 2020

جاگنے کی بھی جگانے کی بھی عادت ہو جائے

جاگنے کی بھی جگانے کی بھی عادت ہو جائے
کاش تجھ کو کسی شاعر سے محبت ہو جائے
دور ہم کتنے دنوں سے ہیں یہ کبھی غور کیا
پھر نہ کہنا جو امانت میں ہو خیانت ہو جائے
جگنوؤ! تم کو "نئے چاند" اگانے ہوں گے
اس سے پہلے کہ اندھیروں کی حکومت ہو جائے
اکھڑے پڑتے میری قبر کے پتھر ہر دن
تم کسی دن جو چلے آؤ "مرمت" ہو جائے

راحت اندوری

No comments:

Post a Comment