جاگنے کی بھی جگانے کی بھی عادت ہو جائے
کاش تجھ کو کسی شاعر سے محبت ہو جائے
دور ہم کتنے دنوں سے ہیں یہ کبھی غور کیا
پھر نہ کہنا جو امانت میں ہو خیانت ہو جائے
جگنوؤ! تم کو "نئے چاند" اگانے ہوں گے
اکھڑے پڑتے میری قبر کے پتھر ہر دن
تم کسی دن جو چلے آؤ "مرمت" ہو جائے
راحت اندوری
No comments:
Post a Comment