مجھ پہ کھلتا نہیں یہ عقدہ ہے
موت منزل ہے یا کہ رستہ ہے
ہاتھ باندھوں کہ ہاتھ چھوڑوں میں
میرا مقصد تو اس کو سجدہ ہے
تم نئے دوست ہو، مگر جانو
کس طرح اس کا میں بُرا چاہوں
یہ عدو بھی خدا کا بندہ ہے
میرا مسلک حنیف حبِ رسولؐ
باقی سب کچھ فساد و فتنہ ہے
حنیف سمانا
No comments:
Post a Comment