Sunday, 6 September 2020

مجھ پہ کھلتا نہیں یہ عقدہ ہے

مجھ پہ کھلتا نہیں یہ عقدہ ہے
موت منزل ہے یا کہ رستہ ہے
ہاتھ باندھوں کہ ہاتھ چھوڑوں میں
میرا مقصد تو اس کو سجدہ ہے
تم نئے دوست ہو، مگر جانو
دل کا دل سے پرانا رشتہ ہے
کس طرح اس کا میں بُرا چاہوں
یہ عدو بھی خدا کا بندہ ہے
میرا مسلک حنیف حبِ رسولؐ
باقی سب کچھ فساد و فتنہ ہے

حنیف سمانا

No comments:

Post a Comment