جانچنے پرکھنے کی صدی ہے
میرے باپ دادا سایوں کے پیچھے بھاگتے تھے
میں کیوں بھاگوں؟
وہ عقیدتوں اور روایتوں کے تالابوں میں ڈبکیاں لگاتے تھے
میں کیوں لگاؤں؟
میں آج وہ سوچنے لگا ہوں
ہوسکتا کل میرا بچہ وہ سوال کرنے بھی لگ جائے
سمندر کے آگے بند نہیں باندھا جاتا
اب اندھیرا گہرا ہوگیا ہے تو اس کا مطلب ہے سحر قریب ہے
سورج کو ڈھانپنے والے تھک جائیں گے
یہ ان کی آخری کوشش ہے
آگہی خوش آمدید
حنیف سمانا
No comments:
Post a Comment