Sunday, 6 September 2020

کوئی آہٹ ہے نہ اب کوئی اشارہ دل میں

کوئی آہٹ ہے, نہ اب کوئی اشارا دل میں
ہم نے اک عمر رکھا تجھ کو سنوارا دل میں
اور کیا کم تھے, مِری جاں کو جھمیلے پہلے
تیری خواہش نے بھی اب پاؤں پسارا دل میں
اس نے سنتے ہی صدا دوڑ کے آ جانا تھا
میری غلطی تھی اسے میں نے پکارا دل میں
عشق کے زہر سے جب لوگ پناہ مانگتے تھے
ہم نے آنکھوں👁 سے پیا اور اتارا دل💚 میں
تجھ سے ملنے کی خوشی تجھ سے بچھڑ جانے کا دکھ
اک منافع💚 رہا ایک خسارا دل💔 میں

شائستہ الیاس

No comments:

Post a Comment