Sunday, 6 September 2020

ترے حضور بھی جس کو قرار مل نہ سکا

ہلاکِ غمزہ سیاست شکار مل نہ سکا
کہ ایک دوسرے سے بر قرار مل نہ سکا
وہ نامراد بنا اک غلام دَیر و حرم
جسے تصورِ پروردگار مل نہ سکا
وہ نامرادِ سکوں جائے تو کہاں جائے
تِرے حضور بھی جس کو قرار مل نہ سکا
حرم ہو، دیر ہو، ہر جا ہے آدمی ہی خدا
مجھے کہیں مِرا پروردگار مل نہ سکا
تمام عمر ہی روتے گزر گئی ہے سحاب
ہمیں تو بھول کے بھی غمگسار مل نہ سکا

سحاب قزلباش

No comments:

Post a Comment