ہلاکِ غمزہ سیاست شکار مل نہ سکا
کہ ایک دوسرے سے بر قرار مل نہ سکا
وہ نامراد بنا اک غلام دَیر و حرم
جسے تصورِ پروردگار مل نہ سکا
وہ نامرادِ سکوں جائے تو کہاں جائے
حرم ہو، دیر ہو، ہر جا ہے آدمی ہی خدا
مجھے کہیں مِرا پروردگار مل نہ سکا
تمام عمر ہی روتے گزر گئی ہے سحاب
ہمیں تو بھول کے بھی غمگسار مل نہ سکا
سحاب قزلباش
No comments:
Post a Comment