Sunday, 6 September 2020

ہزار باتیں ہیں دل میں ابھی سنانے کو

ہزار باتیں ہیں دل میں ابھی سنانے کو
مگر زباں نہیں ملتی ہمیں بتانے کو
وہ آنکھیں آج ستارے تراشتی دیکھیں
جنہوں نے رنگ تبسم دیا زمانے کو
ہم اہلِ ظرف ابھی تک ہیں ایک جنسِ لطیف
جنہیں کچل دیا دنیا نے آزمانے کو
ہمارے پھول، ہمارا چمن، ہماری بہار
ہمیں کو جا نہیں ملتی ہے آشیانے کو
سحاب اتنے تغیر نواز ہیں ہم بھی
کہ اپنے نغموں نے چونکا دیا زمانے کو

سحاب قزلباش

No comments:

Post a Comment