Sunday, 6 September 2020

وحشتوں کے جنگل سے گھر کو لوٹ آنے کا راستہ

وحشتوں کے جنگل سے گھر کو لوٹ آنے کا راستہ نہیں ملتا
تیرے غم نصیبوں کو تجھ کو بھول جانے کا حوصلہ نہیں ملتا
ان سیاہ بختوں کی بے بسی کا اندازہ، لفظ کیا لگائیں گے
اپنے گھر کے اندر بھی جن کو سر چھپانے کا آسرا نہیں ملتا
قہقہوں کی آوازیں کیسے پھوٹ سکتی ہیں ان اداس صحنوں سے
جن کی داستانوں میں، کوئی مسکرانے کا واقعہ نہیں ملتا
روشنی سدا اس کی سوگوار راتوں سے دور دور رہتی ہے
قصرِ بادشاہی سے جس غریب خانے کا سلسلہ نہیں ملتا
آندھیاں پرندوں سے واپسی کی امیدیں یوں تو چھین لیتی ہیں
کوئی لوٹ آئے بھی تو، کہیں ٹھکانے کا کچھ پتہ نہیں ملتا

سرور ارمان

No comments:

Post a Comment