سحر کی سرخیاں عالم میں پھیلانے کی جلدی تھی
ہر اک مجرم کو مقتل میں سزا پانے کی جلدی تھی
مسافت کا تقاضا تھا،۔ رفاقت دور تک رہتی
نجانے کیوں تمہی کو گھر پلٹ جانے کی جلدی تھی
گماں جن وادیوں پر جنتِ ارضی کا ہوتا ہو
در و دیوار بھی مانوس تھے تاریک راتوں سے
چراغوں سے ہواؤں کو بھی ٹکرانے کی جلدی تھی
مصور ڈھونڈتے پھرتے تھے خود جن ماہ پاروں کو
انہی کو ایک دن رنگوں میں ڈھل جانے کی جلدی تھی
کوئی تیار تھا، کر دے ہمیں محرومِ گویائی
کسی کو پاؤں میں زنجیر پہنانے کی جلدی تھی
مسافر چاہتے تھے جس سے کترا کر گزر جانا
زمانے کو وہی تاریخ دہرانے کی جلدی تھی
سرور ارمان
No comments:
Post a Comment