Sunday, 6 September 2020

سرکشی کو جب ہم نے ہم رکاب رکھنا ہے

سرکشی کو جب ہم نے ہمرکاب رکھنا ہے
ٹوٹنے بکھرنے کا کیا حساب رکھنا ہے
ایک ایک ساعت میں زندگی سمونی ہے
ایک ایک جذبے میں انقلاب رکھنا ہے
رات کے اندھیروں سے جنگ کرنے والوں نے
صبح کی ہتھیلی پر آفتاب🌞 رکھنا ہے
ہم پہ اس سے واجب ہیں کوششیں بغاوت کی
تم نے جس قبیلے کو کامیاب رکھنا ہے
رکھ دو ہم فقیروں کی اس کشادہ جھولی میں
اپنی بادشاہی کا جو عذاب رکھنا ہے
تم تو خود زمانے میں جبر کی علامت ہو
تم نے جبر کیا زیرِ احتساب رکھنا ہے
شہرِ بے اماں ہم نے، نقدِ جاں لٹا کر بھی
تیرے ہر دریچے پر کل کا خواب رکھنا ہے

سرور ارمان

No comments:

Post a Comment