اُدھر کی کوئی خبر ملے
اُدھر کی کوئی خبر ملے تو قرار آئے
نزول ہو مجھ پہ ساعتوں کا
کہ جن میں ملفوف ہو کے تِرا پیام پہنچے
صحیفے اُتریں وہ دل پہ، جن میں
سبب کھلیں وحشتوں کے سارے
گِرہ کھلے دل پہ رنجشوں کی
غُبار چھٹکے، گلال مہکیں
رقابتوں کی خبر ملے کچھ
ہو وجہِ اصلِ شرار روشن
یہ کارِ ہجراں تمام ہو اب
نزول ہو دل پہ ساعتوں کا
کہ جن میں ملفوف ہو کے تِرا پیام پہنچے
صوفیہ بیدار
No comments:
Post a Comment