Tuesday, 1 June 2021

بظاہر تو سب بھائی یکجان ہیں اب

 بظاہر تو سب بھائی یک جان ہیں اب

مگر رشتے اندر سے سرطان ہیں اب

تِرے بعد ماں، گھر میں دیوار اُٹھی

گلستاں تھے جو گھر، وہ زندان ہیں اب

لبوں کی منڈیروں پہ لفظوں کے پنچھی

صدا سے ہیں محروم، حیران ہیں اب

وہ بوڑھا شجر گھر کا جب سے گرا ہے

کڑی دھوپ ہے، سائے انجان ہیں اب

یہ کمرہ، یہ آنگن، وہ پودے، وہ اُترن

تِرے بعد سارے ہی سنسان ہیں اب

مِری خشک آنکھوں کے صحرا میں جھانکو

کہ اندر سے یہ کتنی ویران ہیں اب

مجھے آخری ایک ہچکی ہے باقی

یہ ابرو، یہ مژگاں تو بے جان ہیں اب

وہ بچپن کی یادیں، یہ زخمِ نو حامی

یہی میرے جینے کا سامان ہیں اب


حمزہ حامی

No comments:

Post a Comment