Wednesday, 24 March 2021

خوشبوؤں کے نزول جیسا تھا

 خوشبوؤں کے نزول جیسا تھا

وہ جو اک شخص پھول جیسا تھا

ہم زمانے کو لے کے کیا کرتے

اس کے قدموں کی دھول جیسا تھا

میں اسے بھول ہی نہیں پاتی

وہ مِری پہلی بھول جیسا تھا

اس کو پانا تو یوں بھی مشکل تھا

آپ اپنے حصول جیسا تھا

کیا ہوا اس گلاب چہرے کو

آج دیکھا تو دھول جیسا تھا

کس طرح میں نباہ کر پاتی

یہ مقدر ببول جیسا تھا

صوفیہ میں بھی تھی انا کی طرح

وہ بھی اپنے اصول جیسا تھا


صوفیہ بیدار

No comments:

Post a Comment