خوشبوؤں کے نزول جیسا تھا
وہ جو اک شخص پھول جیسا تھا
ہم زمانے کو لے کے کیا کرتے
اس کے قدموں کی دھول جیسا تھا
میں اسے بھول ہی نہیں پاتی
وہ مِری پہلی بھول جیسا تھا
اس کو پانا تو یوں بھی مشکل تھا
آپ اپنے حصول جیسا تھا
کیا ہوا اس گلاب چہرے کو
آج دیکھا تو دھول جیسا تھا
کس طرح میں نباہ کر پاتی
یہ مقدر ببول جیسا تھا
صوفیہ میں بھی تھی انا کی طرح
وہ بھی اپنے اصول جیسا تھا
صوفیہ بیدار
No comments:
Post a Comment