ہوک سی اٹھی دل میں آنسوؤں نے شہ پائی
دیکھ اے غم دوراں پھر کسی کی یاد آئی
بے کھِلی کلی دل کی بے کھِلے ہی مُرجھائی
تم کہاں تھے گلشن میں جب نئی بہار آئی
اب کسے گراں گزرے کاررواں کی رسوائی
راہ بر تماشا ہیں،۔ راہ رو تماشائی
صبح کے اُجالوں پر چھا گیا اندھیرا سا
یا سفید آنچل پر تیری زُلف لہرائی
غمگسار گردانیں کس کو موردِ الزام
حیف میری بے تابی، ہائے تیری خود رائی
دل کے ایک گوشے میں تیرے پیار کی حسرت
جیسے شہرِ خوباں میں کوئی شامِ تنہائی
کون؟ ہاں وہی آفاق، جانتے ہیں ہم اس کو
ہوشیار، دیوانہ، باشعور، سودائی
آفاق صدیقی
No comments:
Post a Comment