گماں کی آخری حد سے فزوں اُداسی ہے
یہ آسمان نہیں، نیلگوں اداسی ہے
یہ کوئی غم ہو تو شاید علاج ممکن ہو
مگر میں اس کا بھلا کیا کروں اداسی ہے
ہنسی ہنسی میں درِ دل کو کھولنے والے
تجھے خبر ہی نہ تھی اندروں اداسی ہے
نہ جانے کیوں مِرے دل کو یقیں نہیں آتا
کہ تیرے ہوتے ہوئے جوں کی توں اداسی ہے
تجھے تو کیا مجھے خود بھی خبر نہیں اس کی
کہ یوں ہے بے دلی مجھ میں، کہ یوں اداسی ہے
تِرے علاوہ سبب کچھ نہیں اداسی کا
کہ ماسوا تِرے جس سے کہوں؛ اداسی ہے
خدا نہ کردہ کہ تُو بھی ہو مبتلا اس میں
اے مجھ سے پوچھنے والے یہ کیوں اداسی ہے
نعیم گیلانی
No comments:
Post a Comment