دل کے بازار میں جب کھوٹا کھرا چلتا ہے
اس خسارے سے محبت کا پتا چلتا ہے
آنکھ کھلتی ہے مگر پوری نہیں کھل سکتی
سانس چلتا ہے مگر اُکھڑا ہوا چلتا ہے
میں تِرے بعد اسی حال میں بے حال ہوا
ذرا رکتا ہے 💔دلِ زار ذرا چلتا ہے
کون جانے کہ تِرے دل میں ہے کیا پوشیدہ
کون جانے کہ تِرے ذہن میں کیا چلتا ہے
اب محبت کی کرنسی پہ ہے تصویر مِری
دشتِ پُر خار میں اب سکہ مِرا چلتا ہے
ایک مدت سے مِرے ساتھ نہیں چلتا کوئی
ایک مدت سے کوئی مجھ سے جدا چلتا ہے
کوئی تو ہے جو دکھائی نہیں دیتا مجھ کو
کوئی تو ساتھ مِرے لے کے دیا چلتا ہے
امتیاز آپ کے حالات بھی کچھ ٹھیک نہیں
ان دنوں وقت ہمارا بھی بُرا چلتا ہے
امتیازالحق
No comments:
Post a Comment