Thursday, 22 July 2021

دل کے بازار میں جب کھوٹا کھرا چلتا ہے

 دل کے بازار میں جب کھوٹا کھرا چلتا ہے

اس خسارے سے محبت کا پتا چلتا ہے

آنکھ کھلتی ہے مگر پوری نہیں کھل سکتی

سانس چلتا ہے مگر اُکھڑا ہوا چلتا ہے

میں تِرے بعد اسی حال میں بے حال ہوا

ذرا رکتا ہے 💔دلِ زار ذرا چلتا ہے

کون جانے کہ تِرے دل میں ہے کیا پوشیدہ

کون جانے کہ تِرے ذہن میں کیا چلتا ہے

اب محبت کی کرنسی پہ ہے تصویر مِری

دشتِ پُر خار میں اب سکہ مِرا چلتا ہے

ایک مدت سے مِرے ساتھ نہیں چلتا کوئی

ایک مدت سے کوئی مجھ سے جدا چلتا ہے

کوئی تو ہے جو دکھائی نہیں دیتا مجھ کو

کوئی تو ساتھ مِرے لے کے دیا چلتا ہے

امتیاز آپ کے حالات بھی کچھ ٹھیک نہیں

ان دنوں وقت ہمارا بھی بُرا چلتا ہے


امتیازالحق

No comments:

Post a Comment