Sunday, 23 May 2021

کرے وصال کہ ہجراں کی انتہا ہی کرے

 کرے وصال کہ ہجراں کی انتہا ہی کرے

بدن کو درد کی شدت سے آشنا ہی کرے

وہ کچھ کہے مجھے تنہائی کی مسافت میں

یہ نیک بخت محبت کوئی خطا ہی کرے

کوئی تو بات چلے کوئے یار میں میری

برا ہی کوئی کہے مجھ کو، بس گلہ ہی کرے

میں جانتی ہوں کوئی اور بھی ہے اس کے قریب

رہے نہ ساتھ مِرے پر کبھی ملا ہی کرے

وہ خامشی کی زباں میں کہے، کہے تو سہی

نہ کچھ کہے تو مِرا حالِ دل سنا ہی کرے

سو اس فقیر سے کہنا کہ تھک گئی ہوں میں

دعا نہیں مجھے دیتا تو بددعا ہی کرے

اگرچہ ختم ہوئے سلسلے صدف اس سے

کسی سے وہ مِرا پوچھے، کبھی پتا ہی کرے


صغرا صدف

صغریٰ صدف

No comments:

Post a Comment