کرے وصال کہ ہجراں کی انتہا ہی کرے
بدن کو درد کی شدت سے آشنا ہی کرے
وہ کچھ کہے مجھے تنہائی کی مسافت میں
یہ نیک بخت محبت کوئی خطا ہی کرے
کوئی تو بات چلے کوئے یار میں میری
برا ہی کوئی کہے مجھ کو، بس گلہ ہی کرے
میں جانتی ہوں کوئی اور بھی ہے اس کے قریب
رہے نہ ساتھ مِرے پر کبھی ملا ہی کرے
وہ خامشی کی زباں میں کہے، کہے تو سہی
نہ کچھ کہے تو مِرا حالِ دل سنا ہی کرے
سو اس فقیر سے کہنا کہ تھک گئی ہوں میں
دعا نہیں مجھے دیتا تو بددعا ہی کرے
اگرچہ ختم ہوئے سلسلے صدف اس سے
کسی سے وہ مِرا پوچھے، کبھی پتا ہی کرے
صغرا صدف
صغریٰ صدف
No comments:
Post a Comment