ہجوم یاس میں لینے وہ کب خبر آیا
اجل نہ آئی تو غش کس امید پر آیا
بچھے ہیں کوئے ستمگر میں جابجا خنجر
رگِ گلو کا لہو پاؤں میں اتر آیا
دکھائی مرگ نے کیا کیا بلندی و پستی
چلے زمیں کے تلے آسماں نظر آیا
ہمیشہ عفو تِرا ہے گناہ کا حامی
ہمیشہ رحم تجھے میرے حال پر آیا
بتوں میں کوئی بھلائی بھی ہے سوائے ستم
بُرا ہو تیرا دل نا سزا کدھر آیا
بنائی بات بگڑنے نے روز محشر بھی
اٹھے ہیں خاک سے ہم جب وہ گور پر آیا
کہاں کی آہ و بکا بات بن گئی شعلہ
زباں کے ہلتے ہی فریاد میں اثر آیا
شعلہ علیگڑھی
منشی بنواری لال شعلہ علی گڑھ
No comments:
Post a Comment