ہم محبت نبھانے والے تھے
اور ظالم زمانے والے تھے
آپ آئے نہیں ہمیں ملنے
آج بادل بھی آنے والے تھے
یاد پھر آ گئی ہمیں تیری
ہم تِرا غم بھلانے والے تھے
لا پتہ ہیں وہ آپ دنیا میں
راستہ جو دکھانے والے تھے
پھر رہے ہیں وہ آج خود تنہا
کارواں جو بنانے والے تھے
آپ کو نیند آ گئی شاہد
داستاں ہم سنانے والے تھے
شاہد رحمان
No comments:
Post a Comment