Sunday, 23 May 2021

ہم محبت نبھانے والے تھے

 ہم محبت نبھانے والے تھے

اور ظالم زمانے والے تھے

آپ آئے نہیں ہمیں ملنے

آج بادل بھی آنے والے تھے

یاد پھر آ گئی ہمیں تیری

ہم تِرا غم بھلانے والے تھے

لا پتہ ہیں وہ آپ دنیا میں

راستہ جو دکھانے والے تھے

پھر رہے ہیں وہ آج خود تنہا

کارواں جو بنانے والے تھے

آپ کو نیند آ گئی شاہد

داستاں ہم سنانے والے تھے


شاہد رحمان

No comments:

Post a Comment