خود سے ہی مذاق کر گیا میں
کل رات کو اپنے گھر گیا میں
کس زندگی کا حساب دوں گا
جس زندگی سے مُکر گیا میں
ہر بزم کی جان تھا، مگر آج
سائے سے ہی اپنے ڈر گیا میں
خوش فہمی یہ کس کو ہو رہی ہے
کس نے یہ کہا؟ سُدھر گیا میں
مقتل بھی گیا صنم کدے بھی
مایوسی ہوئی جدھر گیا میں
کوئی بھی نہ تعزیت کو آیا
میں کہتا رہا کہ مر گیا میں
زبیر قلزم
No comments:
Post a Comment