آنکھ میں کرب کی نمی ہے میاں
اور لب پر سجی ہنسی ہے میاں
سازِ دل پر جمود طاری ہے
کیسی محفل میں بے حسی ہے میاں
پیٹھ پیچھے برائی کرتے ہو
نام کیا اس کا دوستی ہے میاں
لوگ چہرے پہ رکھتے ہیں چہرے
اک ہنر آج دو رخی ہے میاں
کچھ وہاں کی بھی فکر کرلو پھول
وہ بھی تو ایک زندگی ہے میاں
تنویر پھول
No comments:
Post a Comment