Thursday, 16 September 2021

آنکھ میں کرب کی نمی ہے میاں

 آنکھ میں کرب کی نمی ہے میاں

اور لب پر سجی ہنسی ہے میاں

سازِ دل پر جمود طاری ہے

کیسی محفل میں بے حسی ہے میاں

پیٹھ پیچھے برائی کرتے ہو

نام کیا اس کا دوستی ہے میاں

لوگ چہرے پہ رکھتے ہیں چہرے

اک ہنر آج دو رخی ہے میاں

کچھ وہاں کی بھی فکر کرلو پھول

وہ بھی تو ایک زندگی ہے میاں


تنویر پھول

No comments:

Post a Comment