Thursday, 16 September 2021

پرندہ کوئی نہیں لوٹا شام ہونے کو ہے

 پرندہ کوئی نہیں لوٹا، شام ہونے کو ہے

سو، دل کے بیٹھنے کا انتظام ہونے کو ہے

یہ تیرا خاص، بہت خاص، عام ہونے کو ہے

کہ ایسا ویسا کوئی مجھ سے کام ہونے کو ہے

پرندو!! تخلیہ کچھ دیر کیوں نہیں کرتے

کہ ہم سے پیڑ اگر ہمکلام ہونے کو ہے

تمہارے ساتھ مراسم بڑھے تو ہم سمجھے

کسی سے اپنی محبت، تمام ہونے کو ہے

ابھی اصولِ محبت بدلتے دیکھے ہیں

ابھی تو اور بھی بد تر نظام ہونے کو ہے

کتاب زیست کے ہیں چند آخری صفحے

کہانی کار!! ترا اختتام ہونے کو ہے


فیصل صاحب

No comments:

Post a Comment