Thursday, 17 December 2015

دیتے ہیں وفا ہی سے جفاؤں کا صلہ ہم

دیتے ہیں وفا ہی سے جفاؤں کا صلہ ہم
"کیا دل کے تڑپنے کا اٹھاتے ہیں مزا ہم"
مضراب ہر اک سانس ہے سازینۂ دل پر
دل سوز ترانے ہی سناتے ہیں سدا ہم
اس میں نہ کوئی جیت، نہ ہے ہار کسی کی
آؤ گلے مل جائیں محبت سے یاں باہم
دل عشق سے جو زندہ ہو، مرتا نہیں ہرگز
اس راہ میں مٹنے کو سمجھتے ہیں بقا ہم
ہم لائے ہیں اے دوستو! تنویرِ محبت
محفل میں اسی نور سے کرتے ہیں ضیا ہم
ہم یوں تو طلبگارِ عنایت ہیں شب و روز
کیا حکمِ خدا دہر میں لاتے ہیں بجا ہم
گلشن میں کہا پھولؔ نے کھلتے ہی صبا سے
اک دن کے لیے آئے ہیں اے بادِ صبا ہم

تنویر پھول

No comments:

Post a Comment