Saturday, 18 September 2021

دنیا میں پائیداری ہرگز نہیں ملے گی

 نقش بر آب 


دنیا میں پائیداری

ہرگز نہیں ملے گی

دنیا یہ عارضی ہے

فانی ہے قصرِ ہستی

اک فلم چل رہی ہے

منظر بدل رہے ہیں

حاکم ہے دستِ قدرت

سب آگے چل رہے ہیں

لمحہ گزر گیا جو

آتا نہیں دوبارہ

صورت گرِ تغیر

قدرت کا ہر اشارہ

جاری سفر ہمیشہ

ہیں کاروان ہر سو

اے پھول تُو سمجھ لے

ہے روح مثل خوشبو


تنویر پھول

No comments:

Post a Comment