Saturday, 18 September 2021

کیا کیا یہاں تصویر کے پہلو میں پڑا ہے

 کیا کیا یہاں تصویر کے پہلو میں پڑا ہے

تاجر! تِرا ایمان ترازو میں پڑا ہے

اک خوف مِری آنکھ میں رہتا ہے مسلسل

اک خواب ازل سے مِرے آنسو میں پڑا ہے

اک عمر مسافت میں گزاری ہے مِرے یار

اک شوقِ سفر دشت کے آہو میں پڑا ہے

یہ جاں کہ رہی صورت یاہو میں کہیں گم

یہ دل کہ ابھی حلقۂ باہو میں پڑا ہے

جو شخص بھلانے سے بھی بھولا نہیں مجھ کو

تعویذ کی صورت مِرے بازو میں پڑا ہے

ہو گا وہ کبھی اپنے ہی چہرے پہ مکمل

اِک چاند وہ پہلی کا جو ابرو میں پڑا ہے


زعیم رشید

No comments:

Post a Comment